Sunday, November 28, 2010

Quran


بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام علي خاتم الأنبياء والمرسلين نبينا محمد وعلي اّله وصحبه أجمعين وبعد:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ﴿۵۱﴾
اے ایمان والو یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ ان میں سے ہے الله ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا ﴿۵۱﴾

Quran o Hadees


Saturday, November 27, 2010

Sultan of Brunei

3 children are born every second in this world;
10 mobile phones sold on the international level;
auto manufacturers produce a car every 4.5 seconds on average;
and on the level of the human mind = brain cells send 200 directives each second 
to perform the various functions of physical and mental health.
The world spends 37 million euros for arms on the international level in one second  


 
And the Sultan of Brunei's wealth increases by 90 euros every second!

No envy please!

This means around 5400 euros per minute, 324000 euros each hour, 7776000 euros a day

Implies about 54432000 euros a week (that's 54 million and 432000 thousand euros)

 
 
Brunei's Sultan Hassanal Bolkiah ... President of the richest country in the world
Popular, lavish, ... uses gold in everything
Was born literally eating with spoons made of gold
Clothes worn embroidered with gold and silver

These are some pictures of his palace ...
The largest and most luxurious palace in the world...
Consists of 1788 rooms with some furnished in gold and diamond-encrusted
257 bath inlaid with gold and silver
and a garage to accommodate 110 cars
The palace has 650 suites ... each furnished at not less than 150,000 thousand euros
This requires the visitor to spend 24 hours just to inspect each room for 30 seconds
 

 
 
 
The Sultan of Brunei's plane

Most luxurious aircraft in the world, inlaid with gold
The Sultan has also a Boeing 747 worth a hundred million dollars,
and then re-designed as a home at a cost of more than one hundred and twenty million dollars.
Featured add-ons such as a whirlpool bath of pure gold
He also has six small aircraft and two helicopters.
 
 



 
 
 
One of the cars of theSultan of Brunei

At the special request of the Sultan of Brunei,
theRolls Royce company
combined their car designs with that of Porsche.
This vehicle is currently in London
for use during his stay in Britain
 
 
 
When the Sultan of Brunei's daughter married,
the legendarycelebrations continued for 14 days,
at a cost of about five million dollars,
attended by more than 25 heads of state and family members.
 
 
 
 
 
 
Sultan of Brunei car inlaid with pure gold
 

   
 
 
The Princess wears a crown of diamonds
and carries a small bouquet of flowers studded with diamonds.
She also wears huge diamonds as earrings, adding sparkle to her face.
 
 
Wikipedia says he has
531 Mercedes-Benzes 
367 Ferraris 
362 Bentleys
185 BMWs
177 Jaguars
160 Porsches 
130 Rolls-Royces
And 20 Lamborghinis

Bringing the total number of his cars to 1,932

اس طرح کے ہوتے ہیں ......... اصلی حکمران

اس طرح کے ہوتے ہیں
اصلی حکمران
اے تاریخ، لکھ لے یہ سب کچھ
عین اُس وقت جب کہ عرب و عجم کے حکمران لہو و لعب میں غرق،
خیانتوں کے مرتکب اور اپنے  فرائض سے بے خبر تھے،
اس دھرتی پر ایسے حکمران بھی تھے جو دورِ عمر کی تاریخ  کو دہرا رہے تھے۔

 ظہر کی نماز کے بعد وزیروں کے ساتھ ایک میٹنگ
************************

اللہ اللہ ، تمہاری یہ انکساری اور تواضع
  جن راستوں پر تم چلتے ہو، وہ راستے عرب و عجم کے حکمرانوں سے پوشیدہ ہیں کیا؟
اے فلسطین کی شرعی قیادت! تمہارے وزیر صیہونی جیلوں میں،
تمہیں قتل کرنے کی آئے دن کی کوششیں ، تمہارے کئی وزیر شہادت  کے مرتبہ پر فائز،
تم  خود شہادت کے متمنی، تم  چلتے پھرتے غازی،
تم سوتے جاگتے اُٹھتے بیٹھتے صیہونیت اور صیہونیوں کی کٹھ پتلیوں کے نشانوں پر،
اغیار اور اغیار کے آلہ کار تمہارے خون کے پیاسے، پھر بھی تم اتنے نڈر؟
میں  اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ تمہاری قیادت نے کبھی بھی چٹائیوں پر بیٹھنے میں عارمحسوس  نہیں کی تھی!
اور تمہارے دل اُن سے جڑے ہوئے جن کے دل اللہ سے جڑے ہوئے تھے، قیامت تک کا ساتھ!
اے اللہ، اپنے ان عاجز اور منکسرمزاج بندوں کو  فتح اور نصرت سے نواز دے یا رب!
************************
تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ
عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص83)
(یہ) وہ آخرت کا گھر ہے جسے ہم نے ایسے لوگوں کے لئے بنایا ہے جو نہ (تو) زمین میں سرکشی و تکبر چاہتے ہیں
اور نہ فساد انگیزی، اور نیک انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے
یا اللہ، یہ کس قسم کے لیڈر ہیں، ٹھٹھرتی سردی میں فٹ پاٹھ پر بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کا انتظار کرتے ہوئے۔
************************
ہم نے تو  نہ دیکھا  اور نہ ہی  کبھی  یہ سنا تھا   کہ کوئی وزیرِ اعظم جھاڑو  اُٹھائے سڑکوں پر صفائیاں کرتا تھا۔
جب بھی دیکھا یا  سنا  تو یہی کہ قیادتیں ہاتھوں میں قینچی اُٹھائے صرف لال ربن کاٹا کرتی تھیں۔
سارے اچھے رواج تم ہی ڈالو گے کیا؟
************************
شہیدوں اور صیہونی قید میں  پابندِ سلال خاندانوں کے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کھلاتے ہوئے۔
************************
مشائخ اور علماء کرام کی عزت تیرا وطیرہ رہا ہے۔
************************

  اللہ اکبر، اے اللہ اسلام کو فتح و نصرت سے نواز دے۔
میں گواہ ہوں کہ تو نے غزہ میں لشکر کی بنادیں ڈالی تھیں۔
ایسے لشکر، جو تیرے پیچھے سمندر میں کود جائیں گے،
اگر تو پہاڑ پر چڑھے گا تو تیرے شانہ بہ شانہ ہونگے۔
وزیرِ اعظم صاحب، سوٹ تو تبدیل کر لیتے یہ جفا کشی کرتے ہوئے!!!
************************
 آپ بچوں سے پیار کرتے تھے تو بچے بھی آپ سے محبت کرتے تھے ۔
************************

 اے انوکھے وزیرِ اعظم صاحب، آپ نے تو سچ کر دکھایا کہ حکمران کی جگہ تو اپنی رعایا اور عوام میں ہوتی ہے۔
************************
کوئی بھی تو ایسا  عوامی کھانا  نہیں ہے جس پر فخر کیا جائے!
لوبیا، چنوں کا ملیدہ، ماش کے پکوڑے، یہی ہے ناں عوامی کھانا؟
تو نے وہی کھایا جو تیری رعایا اور عوام نے کھایا۔
تیرے جیسے اور وزیرِ اعظم تو پورے بکرے پر بھی راضی نہ ہوتے ہوں شاید؟
نہ تیرا منصب اس میں رکاوٹ بنا  ہے اور نہ ہی تیرا سوٹ بوٹ۔
اے تاریخ لکھ لے یہ سب کچھ۔
آنے والی نسلوں کو تو نے بتانا ہے کہ جب اسی کرہ ارض پر ہمارے حکمرانوں جیسے لوگ تھے،
عین اُسی وقت یہ فقیر منش  انسان بھی حاکم ہوا کرتا تھا۔
************************

 
جب وزیرِ اعظم جناب اسماعیل ھنیہ نے قطر کا دورہ کیا  
تو لوگوں کے دلوں میں ان کیلئے محبت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔
************************
وزیرِ اعظم جناب اسماعیل ھنیہ  صاحب حرم شریف میں حاضری دیتے ہوئے۔
************************
یہ مسلم حکمران مسلمانوں کی نماز کیلئے امامت کراتا ہے،
قرآن شریف کی احکامات کے مطابق تلاوت ہو یا کہ  خطبہ دینا ہو، وہ  ہر معاملے میں ممتاز ہے۔
************************
کیا آپ کسی ایسے حکمران  کو جانتے ہیں  جو اذان کی آواز سنے تو اپنی ملاقات
پر آئے ہوئے وفد کی نماز کیلئے امامت کرے؟
جی ہاں ! اس تصویر میں وزیرِ اعظم صاحب ترکی سے آئے وفد کی اپنے آفس میں امامت کرا رہے ہیں۔
یہی نہیں، ہر نماز کے اوقات میں انکے دفتر میں ہر قسم کا کام موقوف کر دیا جاتا ہے۔
************************
جب کبھی کسی ساتھی کی شہادت  کی خبر آتی ہے،
اندرونی و  بیرونی محاصرے  کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
یا  حکومت چلانے میں دشواری پیدا کی جاتی ہےتو درد  بڑھ جاتے ہیں۔
بات اگر عوام کے دکھ درد کی ہو یا ذمہ داریوں کا احساس،
جذبات آنسوؤں کا روپ بھی دھار لیتے ہیں۔
************************
ہزار تصویروں کی ایک تصویر ، اسماعیل ہنیہ صاحب ایک معمر خاتون کے آنسو پونچھتے ہوئے،
صیہونی فوجیوں نے اس عورت کا مکان مسمار کر دیا تھا۔
یا اللہ، کیسا عظیم حکمران ہے یہ!!!
اور کتنی محبت ہے اس کے دل میں اپنی رعایا کیلئے!!!
************************
وزیرِ اعظم صاحب اپنے دفتر میں بھی وہی  دال ہی کھاتے ہیں
جو ان کی عوام کے کسی غریب شخص کے گھر میں پکتی ہے۔
************************
سنت پر پابندی تو ہر حال میں کی جائے گی۔
اسماعیل ہنیہ صاحب ایک نو مولود کے کان میں اذان دیتے ہوئے۔
************************
غزہ پر ظالموں کے محاصرے میں باہر نکل کر عوام سے یک جہتی کا اظہار ،
ایک ضعیف عورت سے اسکا حال احوال پوچھتے اور تسلی دیتے ہوئے۔
************************
غزہ پر محاصرے  کے دوران
بچوں سے ہنسی مذاق کر کے ان کے چہروں پر مسکراہٹ  لاتے ہوئے۔
************************
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسالم کے ارشاد کے مطابق کہ
تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داریوں  کا جواب لیا جائے گا ۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے ہوئے ، جو راتوں کو اُٹھ کر عوام کی خبر گیری کیا کرتے تھے۔
وزیرِ اعظم صاحب ایک غریب اور نادار خاندان  کے گھر پر افطاری کیلئے تشریف لے گئے۔

************************
   اور تو  اور، ایک ایسے شخص نے بھی وزیرِ اعظم صاحب کو دعوت دے ڈالی
جسکا گھر 20 مربع میٹر سے بھی چھوٹا تھا۔

  
************************
مدینہ رفحہ کی مسجد بلال بن رباح کے امام صاحب کی دعوت پر تشریف لے گئے،
نہ صرف یہ کہ نماز تراویح کی امامت کی، بلکہ بعد میں ایک خطبہ بھی دیا،
کیوں نہ جاتے، آخر یہ مسجد اس سال 40 حفاظ کا تحفہ جو پیش کرنے جا رہی ہےناں۔
**********************
جی ہاں، کفایت شعاری کی مہمیں ہمارے ہاں بھی خوب چلتی ہیں،
درونِ خانہ کون جانتا ہے کیا  کفایت ہوتی ہے۔
مگر اس وزیرِ اعظم صاحب کی تو کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے نا!
ملاحظہ فرمائیے وزیرِ اعظم ہاؤس!
























 
اے اباالعبد، اللہ تیری حفاظت فرمائے،
تیری سیرت تو گلاب کے پھولوں سے بھی زیادہ مہک رکھتی ہے،
مگر میری آنکھوں سے یہ آنسو کیوں نکل آئے ہیں
یہ چھوٹا سا  نذرانہ عقیدت ہے  میری طرف سے، خراجِ تحسین ہے تیری عظمت کو۔
یا اللہ اپنے اس بندے کو عمرِ مدید عطا فرما،
اے اللہ،غزہ کو ظالموں کے محاصرے سے آزادی دے یا رب!

Quran o Hadees